اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخیلق کائنات کے بعد کچھ قاعدے قوانین مقرر کیے ہیں تاکہ نظام کائنات میں خیر و شر کی پہچان ہو سکے اسی طرح ہماری سماجی زندگی میں بھی حکومت کی طرف سے قوانین نافذ کیے جاتے تا کہ اچھے اور بُرے کی تمیز کی جا سکے اور نظام حکومت مستحکم بنیادوں پر استوار ہو سکے ۔ یہ قاعدے اور قوانین کسی بھی نظام کو مستحکم کرنے کے لئے نہایت ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ اسی طرح معدنیات کے شعبے میں بھی قواعد و قوانین کا ہونا لازمی امر ہے ۔ معدنی وسائل چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ ہیں اس لئے ان پر ہر بنی نوع بشر کا بنیادی حق ہے اور ان کو یہ حق دینے کے لئے حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ منصفانہ طریقے سے معدنی وسائل سے استعفادہ حاصل کرے ۔ معدنی وسائل سے قانونی طور پر استعفادہ حاصل کرنے کے لئے محکمہ معدنیات کے نافذ العمل MCR, 2003میں ترمیم کیا اور مقامی لوگوں کے مسائل اور اُن کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ معدنیات گلگت بلتستان نے مائننگ کنسیشن رولز ۲۰۱۴ تیار کر کے منظوری کے لئے متعلقہ حکام کو پیش کیا ہے تا کہ ان قوانین پر عمل پیرا ہو کر گلگت بلتستان کے معدنی ذخائر سے فائدہ حاصل کیا جائے اوراگر کوئی ان قوانین پر عمل نہیں کرتا ہے تو محکمہ معدنیات نے مائننگ کنسیشن رولز کے تحت جزا و سزا کا نظام بھی متعارف کروایا ہے اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے تجاویز بھی پیش کی ہیں تا کہ مقامی لوگوں کی ترقی بھی اس میں شامل ہو سکے ۔